hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7704

.

سنن البيهقي

7704
Sunan Al Bayhaqi
(۷۷۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْبِرْتِیُّ الْقَاضِی حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ یَعْنِی ابْنَ قَیْسٍ عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ قَالَ : کُنَّا نُخْرِجُ إِذْ کَانَ فِینَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- زَکَاۃَ الْفِطْرِ عَنْ کُلِّ صَغِیرٍ وَکَبِیرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوکٍ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِیبٍ۔ فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُہُ حَتَّی قَدِمَ مُعَاوِیَۃُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا فَکَلَّمَ النَّاسَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَکَانَ فِیمَا کَلَّمَ بِہِ النَّاسَ أَنْ قَالَ : إِنِّی أَرَی أَنَّ مُدَّیْنِ مِنْ سَمْرَائِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَأَخَذَ بِذَلِکَ النَّاسُ۔ فَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ : فَأَمَّا أَنَا فَلاَ أَزَالُ أُخْرِجُہُ کَمَا کُنْتُ أُخْرِجُہُ أَبَدًا مَا عِشْتُ۔ وَفِی رِوَایَۃِ الرَّزَّازِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیِّ دُونَ کَلِمَۃٍ أَوْ فِی ہَذَا الْمَوْضِعِ ، وَقَدْ أَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عِیَاضٍ وَفِیہِ کَلِمَۃِ أَوْ۔ [صحیح۔ ہذا الفظ مسلم، أخرجہ ابو داؤد]
(٧٧٠١) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں موجود تھے تو ہم صدقہ فطر ہر چھوٹے بڑے اور غلام وآزاد کی طرف سے ایک صاع جو ‘ کھجوریا منقی میں سے دیا کرتے تھے۔ ہم یوں ہی نکالتے رہے حتیٰ کہ امیر معاویہ (رض) حج یا عمرے کے لیے آئے تو منبر پر لوگوں سے کلام کیا اور جو انھوں نے کلام کیا وہ یہ تھا کہ میرا خیال ہے کہ شام کے چاول کے دو مد کھجور کے ایک صاع کے برابر ہیں تو لوگوں نے اس کو اپنا لیا، لیکن میں تو ہمیشہ وہی نکالتا رہوں گا جو میں نکالا کرتا تھا۔
رزاز کی ایک روایت میں ہے کہ گندم کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع۔