(۷۷۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِیلَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَیُّوبُ بْنُ مُوسَی أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَہُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِی زَکَاۃِ الْفِطْرِ بِنِصْفِ صَاعٍ مِنْ حِنْطَۃٍ أَوْ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ۔
وَہَذَا لاَ یَصِحُّ وَکَیْفَ یَکُونُ ذَلِکَ صَحِیحًا وَرِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ تَعْدِیلَ الصَّاعِ مُدَّیْنِ مِنْ حِنْطَۃٍ کَانَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ [منکر۔ أخرجہ الدار قطنی]
(٧٧١١) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن حزم کو صدقہ فطر کے بارے میں حکم دیا کہ نصف صاع گندم یا ایک صاع کھجور سے دیا جائے۔
یہ درست نہیں ہے۔ یہ کیسے درست ہوسکتا ہے کہ صحابہ کی ایک جماعت بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ایک صاع گندم کے دو مد کے برابر سمجھے جاتے تھے ۔