(۷۷۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیلُ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَۃِ فِی آخِرِ رَمَضَانَ فَقَالَ : أَدُّوا صَدَقَۃَ صَوْمِکُمْ۔ فَکَأَنَّ النَّاسَ لَمْ یَعْلَمُوا فَقَالَ : مَنْ ہَا ہُنَا مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ عَلِّمُوا إِخْوَانَکُمْ فَإِنَّہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ہَذِہِ الصَّدَقَۃَ عَلَی کُلِّ صَغِیرٍ وَکَبِیرٍ ذَکَرٍ وَأُنْثَی حُرٍّ وَعَبْدٍ صَاعُ تَمْرٍ أَوْ صَاعُ شَعِیرٍ أَوْ نِصْفُ صَاعِ قَمْحٍ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَرَأَی رُخْصَ الشَّعِیرِ قَالَ : لَوْ جَعَلْتُمُوہُ صَاعًا مِنْ کُلِّ شَیْئٍ ۔ قَالَ : وَکَانَ الْحَسَنُ یَرَاہَا عَلَی مَنْ صَامَ۔ کَذَا قَالَ خَطَبَنَا۔
وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ سَہْلِ بْنِ یُوسُفَ فَقَالَ خَطَبَ وَہُوَ أَصَحُّ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد]
(٧٧١٢) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس (رض) نے رمضان کے آخر میں ہمیں بصرہ میں خطبہ دیا اور فرمایا : اپنے روزوں کی زکوۃ ادا کرو، گویا کہ لوگ اس بات کو جانتے نہیں تھے پھر انھوں نے فرمایا : یہاں اہل مدینہ میں سے کون ہے ، وہ اپنے بھائیوں کو سکھلا دے ، کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ یہ زکوۃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرض کی ہے ہر چھوٹے بڑے پر مذکر ومؤنث ، آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک صاع یا گندم کا نصف صاع۔ جب علی (رض) نے آئے تو انھوں نے جو کو کم قیمت پایا تو انھوں نے کہا : اگر تم ہر چیز کا صاع مقرر کرلو تو بہتر ہے۔