(۷۷۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ : سَأَلَ أَبُو یُوسُفَ مَالِکًا عِنْدَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَنِ الصَّاعِ کَمْ ہُوَ رِطْلاً؟ قَالَ : السُّنَّۃُ عِنْدَنَا أَنَّ الصَّاعَ لاَ یُرْطَلُ فَفَحَمَہُ۔
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : سَمِعْتُ الْحُسَیْنَ بْنَ الْوَلِیدِ یَقُولُ قَالَ أَبُو یُوسُفَ : فَقَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَجَمَعْنَا أَبْنَائَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَدَعَوْتُ بِصَاعَاتِہِمْ فَکُلٌّ یُحَدِّثَنِی عَنْ آبَائِہِمْ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَّ ہَذَا صَاعُہُ فَقَدَرْتُہَا فَوَجَدْتُہَا مُسْتَوِیَۃً فَتَرَکْتُ قَوْلَ أَبِی حَنِیفَۃَ وَرَجَعْتُ إِلَی ہَذَا۔ [حسن لغیرہٖ]
(٧٧٢٠) ابو احمد محمد بن عبد الوھاب فرماتے ہیں : میں نے اپنے والد سے سنا، یوسف نے امام مالک سے امیر المؤمنین کے پاس پوچھا کہ صاع کتنے رطل کا ہوتا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک سنت یہ ہے کہ صاع کے رطل نہیں ہوتے اور اسے یہ جواب دے کر لاجواب کردیا ۔ ابو احمد فرماتے ہیں : میں حسین بن ولید کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابو یوسف نے فرمایا : جب میں مدینے آیا اور اصحاب رسول کے بیٹوں کو جمع کیا اور ان سے تمام صاع منگوائے تو وہ سب کے سب اپنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث نقل فرمانے لگے کہ یہی وہ صاع ہے تو میں نے ان سب کے صاع کو برابر پایا۔ پھر میں نے ابوحنیفہ کے قول کو ترک کردیا اور اس کی طرف رجوع کرلیا۔