hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7724

.

سنن البيهقي

7724
Sunan Al Bayhaqi
(۷۷۲۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعْدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْوَلِیدِ قَالَ : قَدِمَ عَلَیْنَا أَبُو یُوسُفَ مِنَ الْحَجِّ فَأَتَیْنَاہُ فَقَالَ : إِنِّی أُرِیدُ أَنْ أَفْتَحَ عَلَیْکُمْ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ ہَمَّنِی تَفَحَّصْتُ عَنْہُ فَقَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَسَأَلْتُ عَنِ الصَّاعِ فَقَالُوا : صَاعُنَا ہَذَا صَاعُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قُلْتُ لَہُمْ : مَا حُجَّتُکُمْ فِی ذَلِکَ فَقَالُوا : نَأْتِیکَ بِالْحُجَّۃِ عَنْدَنَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَانِی نَحْوٌ مِنْ خَمْسِینَ شَیْخًا مِنْ أَبْنَائِ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ مَعَ کُلِّ رَجُلٍ مِنْہُمُ الصَّاعُ تَحْتَ رِدَائِہِ کُلُّ رَجُلٍ مِنْہُمْ یُخْبِرُ عَنْ أَبِیہِ أَوْ أَہْلِ بَیْتِہِ : أَنَّ ہَذَا صَاعُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَنَظَرْتُ فَإِذَا ہِیَ سَوَاء ٌ قَالَ فَعَیَرْتُہُ فَإِذَا ہُوَ خَمْسَۃُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ بِنُقْصَانٍ مَعَہُ یَسِیرٍ فَرَأَیْتُ أَمْرًا قَوِیًّا فَقَدْ تَرَکْتُ قَوْلَ أَبِی حَنِیفَۃَ فِی الصَّاعِ وَأَخَذْتُ بِقَوْلِ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ۔ قَالَ الْحُسَیْنُ : فَحَجَجْتُ مِنْ عَامِی ذَلِکَ فَلَقِیتُ مَالِکَ بْنَ أَنَسٍ فَسَأَلْتُہُ عَنِ الصَّاعِ فَقَالَ : صَاعُنَا ہَذَا صَاعُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : کَمْ رِطْلاً ہُوَ؟ قَالَ : إِنَّ الْمِکْیَالَ لاَ یُرْطَلُ ہُوَ ہَذَا۔ قَالَ الْحُسَیْنُ : فَلَقِیتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ زَیْدٍ بْنِ أَسْلَمَ فَقَالَ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَدِّی : أَنَّ ہَذَا صَاعُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [حسن۔ رجالہ ثقات]
(٧٧٢١) حسین بن ولید فرماتے ہیں کہ ابو یوسف حج سے واپسی پر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ میں چاہتا ہوں کہ تم پر علم کا ایک ایسا دروازہ کھولوں جس نے مجھے تیار کیا اور میں انھیں چھوڑ کر مدینے چلا آیا ، پھر میں نے صاع کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا : یہ ہمارا صاع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صاع ہے۔ میں نے ان سے کہا : تمہاری کیا دلیل ہے ؟ انھوں نے کہا : ہم آپ کے پاس اس کی دلیل لاتے ہیں۔ اگلی صبح میرے پاس پچاس شیوخ کے لگ بھگ آئے جو مہاجرین و انصار کے بیٹے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس اس کی چادر کے نیچے صاع تھا اور ان میں سے ہر ایک اپنے گھر والوں یا والدین سے کہہ رہا تھا کہ یہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صاع ہے۔ جب میں نے دیکھا تو سب کو برابر پایا اور وہ سواپانچ رطل سے کچھ کم تھا تو میں نے اس کو قوی جانا اور ابوحنیفہ کے قول کو ترک کردیا اور اہل مدینہ کے قول کو قبول کرلیا۔
حسن فرماتے ہیں : میں نے اسی سال حج کیا تو میری ملاقات امام مالک بن انس سے ہوئی۔ میں نے ان سے صاع کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا : ہمارا یہ صاع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کا صاع ہے۔ میں نے پوچھا : یہ کتنے رطل کا ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : مکیال کے رطل نہیں ہوتے۔ حسین فرماتے ہیں : پھر میں عبداللہ بن زید بن اسلم سے ملا تو انھوں نے فرمایا : مجھے میرے والد نے میرے دادا کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہی حضرت عمر (رض) کا صاع ہے۔