(۷۷۳۰) أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: کُنَّا نُعْطِی عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، صَاعًا مِنْ شَعِیرٍ صَاعًا مِنْ زَبِیبٍ، صَاعًا مِنْ أَقِطٍ ، فَلَمَّا جَائَ مُعَاوِیَۃُ وَجَائَ تِ السَّمْرَائُ عَدَلَہُ النَّاسُ بِمُدَّیْنِ حِنْطَۃً۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ کَمَا تَقَدَّمَ ذِکْرُہُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(٧٧٣٠) ابو حذیفہ فرماتے ہیں کہ سفیان نے اسی سند سے حدیث بیان کی کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں گندم، کھجور ، جو، منقیٰ یاپنیر کا ایک صاع دیا کرتے تھے ۔ جب امیر معاویہ (رض) آئے اور چاول بھی کاشت ہوئے تو لوگوں نے اسے گندم کے دو مد کے برابر سمجھا۔