(۷۷۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِیقٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَیْنَبَ امْرَأَۃِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالصَّدَقَۃِ فَقَالَ : ((تَصَدَّقْنَ یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ وَلَوْ مِنْ حُلِیِّکُنَّ))۔ قَالَتْ : وَکُنْتُ أَعُولُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ وَیَتَامَی فِی حِجْرِہِ ، وَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ خَفِیفَ ذَاتِ الْیَدِ فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّہِ : ائْتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَسَلْہُ أَیُجْزِئُ ذَلِکَ عَنِّی أَوْ أُوَجِّہُہُ عَنْکُمْ تَعْنِی الصَّدَقَۃَ فَقَالَ : ((لاَ بَلِ ائْتِیہِ أَنْتِ فَسَلِیہِ)) قَالَتْ فَأَتَیْتُہُ فَجَلَسْتُ فَوَجَدْتُ عِنْدَ الْبَابِ امْرَأَۃً مِنَ الأَنْصَارِ حَاجَتُہَا حَاجَتِی ، وَکَانَتْ قَدْ أُلْقِیَتْ عَلَیْہِ الْمَہَابَۃُ قَالَتْ : فَخَرَجَ عَلَیْنَا بِلاَلٌ فَقُلْنَا : سَلْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَلاَ تُخْبِرْہُ مَنْ نَحْنُ فَسَأَلَہُ فَقَالَ : امْرَأَتَانِ تَعُولاَنِ أَزْوَاجَہُمَا وَیَتَامَی فِی حُجُورِہِمَا ہَلْ یُجْزِئُ ذَلِکَ عَنْہُمَا مِنَ الصَّدَقَۃِ؟ فَقَالَ لَہُ : ((مَنْ ہُمَا؟))۔ قَالَ : زَیْنَبُ وَامْرَأَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ : ((أَیُّ الزَّیَانِبِ))۔ قَالَ : امْرَأَۃُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَامْرَأَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ : ((نَعَمْ لَہُمَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَۃِ ، وَأَجْرُ الصَّدَقَۃِ))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ أَبِی الأَحْوَصِ عَنِ الأَعْمَشِ بِطُولِہِ ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری]
(٧٧٥٩) عبداللہ بن مسعود (رض) کی بیوی زینب (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا : اے عورتوں کی جماعت ! صدقہ کیا کرو اگرچہ اپنے زیور سے ہی کرنا پڑے۔ میں عبداللہ بن مسعود سے زیادہ تھی اور کچھ یتیم ان کی گود میں تھے اور عبداللہ تنگ دست تھے تو میں نے عبداللہ سے کہا : تم پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ کیا میرا صدقہ آپ کے لیے درست ہے یا انھوں نے کہا : میں تم پر صدقہ کروں تو عبداللہ نے کہا : نہیں بلکہ خود جا کر پوچھو ۔ وہ کہتی ہیں : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آئی اور آ کر بیٹھ گئی، میں نے دروازے کے پاس ایک انصاری عورت کو دیکھا ۔ اسے بھی وہی ضرورت تھی جو میری ضرورت تھی کہ کچھ کمزور اس کے پاس تھے تو بلال (رض) ہماری طرف نکلے، ہم نے کہا : تو جا کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھ ، مگر ہمارے بارے نہ بتانا، انھوں نے جا کر پوچھا : دو عورتیں ہیں جو اپنے خاوندوں سے زیادہ مال دار ہیں اور ان کی گود میں یتیم پرورش پا رہے ہیں، کیا ان کا صدقہ ان پر کفایت کر جائے گا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ ہیں کون ؟ تو بلال (رض) نے کہا : زینب ہے اور ایک انصاری عورت، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون سی زینبیں ؟ انھوں نے کہا : عبداللہ بن مسعود (رض) کی بیوی اور ایک انصاری عورت تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ان کے لیے دوگنا اجر ہے ایک قرابت داری کا اور ایک صدقہ کرنے کا۔