(۷۷۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاہِرِ
(ح) وَأَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُونُسَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ أَبِی أَیُّوبَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ أَبِی الْوَلِیدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَعْرَابِ لَقِیَہُ بِطَرِیقِ مَکَّۃَ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ عَبْدُ اللَّہِ ، وَحَمَلَہُ عَلَی حِمَارٍ کَانَ یَرْکَبُہُ ، وَأَعْطَاہُ عِمَامَۃً کَانَتْ عَلَی رَأْسِہِ۔ فَقَالَ ابْنُ دِینَارٍ فَقُلْنَا لَہُ : أَصْلَحَکَ اللَّہُ إِنَّہُمُ الأَعْرَابُ وَہُمْ یَرْضَوْنَ بِالْیَسِیرِ۔ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : إِنَّ أَبَا ہَذَا کَانَ وَادًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، وَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَۃُ الْوَلَدِ أَہْلَ وُدِّ أَبِیہِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
(٧٧٦٨) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ دیہاتیوں میں سے ایک شخص مکہ کے راستے میں ملاتو عبداللہ نے اسے سلا م کہا اور جس گدھے پر سوار تھے اسے بھی سوار کرلیا اور اپنا عمامہ جو سر پر تھا اسے دے دیا ۔ ابن دینار کہتے ہیں : ہم نے اسے کہا : اللہ آپ کی اصلاح کرے، وہ دیہاتی لوگ بہت کم پر خوش ہوجاتے ہیں تو عبداللہ (رض) نے کہا : اس کا والد عمر بن خطاب (رض) سے بہت پیار کرتا تھا اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے : نیکیوں میں سے بڑی نیکی والد کے ساتھ محبت کرنے والوں سے صلہ رحمی اور محبت کرنا ہے۔