hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7812

.

سنن البيهقي

7812
Sunan Al Bayhaqi
(۷۸۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسَمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِی کُدَیْرٌ الضَّبِّیُّ أَنَّ رَجُلاً أَعْرَابِیًّا أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : أَخْبِرْنِی بِعَمَلٍ یَقَرِّبُنِی مِنْ طَاعَتِہِ وَیُبَاعِدُنِی مِنَ النَّارِ قَالَ : ((أَوَہُمَا أَعْمَلَتَاکَ))۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : ((تَقُولُ الْعَدْلَ وَتُعْطِی الْفَضْلَ))۔ قَالَ : وَاللَّہِ مَا أَسْتَطِیعُ أَنْ أَقُولَ الْعَدْلَ کُلَّ سَاعَۃٍ ، وَمَا أَسْتَطِیعُ أَنْ أُعْطِیَ فَضْلَ مَالِی قَالَ : ((فَتُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتُفْشِی السَّلاَمَ))۔ قَالَ : ہَذِہِ أَیْضًا شَدِیدَۃٌ قَالَ : ((فَہَلْ لَکَ إِبِلٌ))۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : ((فَانْظُرْ بَعِیرًا مِنْ إِبِلِکَ وَسِقَائً ثُمَّ اعْمِدْ إِلَی أَہْلِ أَبْیَاتٍ لاَ یَشْرَبُونَ الْمَائَ إِلاَّ غِبًّا فَاسْقِہِمْ فَلَعَلَّکَ أَنْ لاَ یَہْلِکَ بَعِیرُکَ ، وَلاَ یَنْخَرِقَ سِقَاؤُکَ حَتَّی تَجِبَ لَکَ الْجَنَّۃُ))۔ قَالَ فَانْطَلَقَ الأَعْرَابِیُّ یُکَبِّرُ قَالَ فَمَا انْخَرَقَ سِقَاؤُہُ وَلاَ ہَلَکَ بَعِیرُہُ حَتَّی قُتِلَ شَہِیدًا۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن خزیمہ]
(٧٨٠٩) کدیرضبی فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : مجھے ایسا عمل بتلائیں جو مجھے اس کے قریب قریب کردے اور دوزخ سے دور کردے ۔ آپ نے پوچھا : کیا تو ان پر عمل کرے گا ؟ اس نے کہا : ہاں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انصاف کی بات کہو اور مال سے بچا ہوا دے دو تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں استطاعت نہیں رکھتا کہ ہر وقت عدل کی بات کروں اور نہ ہی اپنا بچاہو امال دینے کی استطاعت رکھتا ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو کھانا کھلا ۔ اس نے کہا : یہ بھی مشکل ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تیرے اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو اپنے اونٹوں میں سے طاقت ور، پانی پلانے والے اونٹ لے اور گھر والوں کی طرف جائیں۔ وہ گدلا پانی پیتے۔ سو تو انھیں پلا۔ شاید تیرا اونٹ تجھے ہلاک نہ کرے اور تیرا مشکیزہ نہ پھٹییہاں تک کہ تجھ پر جنت واجب ہوجائے۔ وہ کہتے ہیں : وہ دیہاتی تکبیر کہتے ہوئے چلا گیا۔ راوی کہتے ہیں کہ نہ تو اس کا مشکیزہ پھٹا اور نہ ہی اس کا اونٹ ہلاک ہوا یہاں تک کہ وہ شہید ہوگیا۔