(۷۸۱۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَأَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالاَ أَخْبَرَنَا إِسَمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((مَثَلُ الْمُنْفِقِ وَالْبَخِیلِ کَمَثَلِ رَجُلَیْنِ عَلَیْہِمَا جُنَّتَانِ أَوْ جُبَّتَانِ مِنْ حَدِیدٍ مِنْ لَدُنْ ثُدِیِّہِمَا إِلَی تَرَاقِیہِمَا ، فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ أَنْ یُنْفِقَ سَبَغَتْ عَلَیْہِ الدِّرْعُ أَوْ مَرَّتْ حَتَّی تُجِنَّ بَنَانَہُ وَتَعْفُوَ أَثَرَہُ ، وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِیلُ أَنْ یُنْفِقَ قَلَصَتْ عَلَیْہِ وَلَزِمَتْ کُلُّ حَلْقَۃٍ مَوْضِعَہَا حَتَّی أَخَذَتْ بِعُنُقِہِ أَوْ بِتَرْقُوَتِہِ فَہُوَ یُوَسِّعُہَا وَہِیَ لاَ تَتَّسِعُ فَہُوَ یُوَسِّعُہَا وَہِیَ لاَ تَتَّسِعُ))۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
(٧٨١٠) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خرچ کرنے والے اور بخیل کی مثال ایسے دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر لوہے کے قمیض یا جبّے ہیں جو ان کی چھاتی سے گردن تک ہیں ، سو جب وہ خرچ کرنے والا خرچ کرنا چاہتا ہے تو اس کی قمیض کشادہ ہوجاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے قدموں تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے قدموں کے نشان بھی مٹا دیتی ہے اور جب بخیل خرچ کرنا چاہتا ہے تو وہ اس پر سکڑجاتی ہے اور ہر کڑی اپنی جگہ پر چمٹ جاتی ہے ، یہاں تک کہ اسے گردن سے پکڑلیتی ہے یا حلق سے سو وہ اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ کشادہ نہیں ہوتی۔ پھر وہ کوشش کرتا ہے مگر اسے کامیابی نہیں ہوتی۔