(۷۸۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَۃَ : الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلاَّمٍ عَنْ أَخِیہِ زَیْدٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَلاَّمٍ یَقُولُ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ فَرُّوخَ أَنَّہُ سَمِعَ عَائِشَۃَ تَقُولُ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((إِنَّہُ خُلِقَ کُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِی آدَمَ عَلَی سِتِّینَ وَثُلاَثِ مِائَۃِ مَفْصِلٍ ، فَمَنْ کَبَّرَ اللَّہَ وَحَمِدَ اللَّہَ وَہَلَّلَ اللَّہَ وَسَبَّحَ اللَّہَ وَاسْتَغْفَرَ اللَّہَ وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِیقِ النَّاسِ أَوْ عَزَلَ شَوْکَۃً عَنْ طَرِیقِ النَّاسِ أَوْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَہَی عَنْ مُنْکَرٍ عَدَدَ تِلْکَ السِّتِّینَ وَالثَّلاَثِ مِائَۃٍ السُّلاَمَی فَإِنَّہُ یُمْسِی یَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَہُ عَنِ النَّارِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ الْحُلَوانِیِّ عَنْ أَبِی تَوْبَۃَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم]
(٧٨٢٢) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک ہر انسان آدم کی اولاد میں سے ہے ، اس کے تین سو ساٹھ جو ڑ ہیں ، جس نے اللہ کی بڑائی بیان کی اور اس کی حمد اور ثناء بیان کی اور سبحان اللہ کہا اور اللہ سے استغفار کیا اور لوگوں کے راستے سے پتھر یا کانٹے کو ہٹایا یا نیکی کا حکم دیا یا بڑائی سے منع کیا، یہ تین سو ساٹھ جوڑوں کا صدقہ کرنے کے برابر ہوگا سو وہ اس دن شام کرے گا تو اس حالت میں کہ اس نے اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے بچا لیا ہوگا۔