(۷۸۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ قَالَ
قَالَ نَافِعٌ : کَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یَقُولُ : لاَ یَصْلُحُ لِلْعَبْدِ أَنْ یُنْفِقَ مِنْ مَالِہِ شَیْئًا ، وَلاَ یُعْطِیہِ أَحَدًا إِلاَّ بِإِذْنِ سَیِّدِہِ إِلاَّ أَنْ یَأْکُلَ فِیہِ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ یَکْتَسِیَ۔
وَالْحَدِیثُ الْمُسْنَدُ یُحْتَمَلُ عَلَی الْبُعْدِ أَنْ یَکُونَ قَصْدُ النَّبِیِّ -ﷺ- تَرْغِیبَ الْمَالِکِ فِی أَنْ یَأْذَنَ لِمَمْلُوکِہِ فِی أَنْ یَتَصَدَّقَ عَنْہُ وَالأَجْرُ بَیْنَہُمَا ، وَمَا یَدُلُّ عَلَیْہِ ظِاہِرُہُ مِنَ الإِبَاحَۃِ أَوْلَی بِمَنْ رَغَّبَ فِی مُتَابَعَۃِ السُّنَّۃِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ رجالہ ثقات]
(٧٨٦٣) نافع (رح) فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے تھے کہ غلام کے لیے درست نہیں کہ وہ اس کے مال میں سے کچھ خرچ کرے اور نہ یہ کہ اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو دے، مگر معروف طریقے سے کھائے یا پہنے۔
(اس حدیث کا محمول کرنا بعید ہے۔ شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقصد مالک کو ترغیب دلاناہو کہ وہ غلام کو صدقے کی اجازت دے اور اجر میں دونوں برابر ہوں اس کا ظاہر ترغیب پر دلالت کرتا ہے۔