(۷۹۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ عَنْ زَائِدَۃَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ تَقَدَّمُوا الشَّہْرَ بِصِیَامِ یَوْمٍ وَلاَ یَوْمَیْنِ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ شَیْئًا یَصُومُہُ أَحَدُکُمْ ، وَلاَ تَصُومُوا حَتَّی تَرَوْہُ ، ثُمَّ صُومُوا حَتَّی تَرَوْہُ فَإِنْ حَالَ دُونَہُ غَمَامَۃٌ فَأَتِمُّوا الْعِدَّۃَ ثَلاَثِینَ ، ثُمَّ أَفْطِرُوا ، الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ))۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَاہُ حَاتِمُ بْنُ أَبِی صَغِیرَۃَ وَشُعْبَۃُ وَالْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سِمَاکٍ بِمَعْنَاہُ لَمْ یَقُولُوا ثُمَّ أَفْطِرُوا۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَرَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ سِمَاکٍ فَجَعَلَ إِکْمَالَ الْعِدَّۃِ لِشَعْبَانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
(٧٩٤٨) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس مہینے کا ایک یا دو دن کے روزے رکھ کر استقبال نہ کرو سوائے اس کے کہ کسی اور وجہ سے کوئی روزہ رکھ رہا ہو اور تم روزہ نہ رکھو جب تک تم اسے دیکھ نہ لو، پھر روزہ رکھتے رہو جب تک اسے دیکھ نہ لو اور اگر کوئی بادل وغیرہ حائل ہوجائے تو پھر تیس دن پورے کرو ، پھر افطار کرو ۔ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
ابو داؤد نے حسن بن صالح سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ سماک نے انھیں معانی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے نہیں کہا کہ پھر تم افطار کرو۔ مگر شیخ نے سماک سے بیان کیا کہ وہ شعبان کی تعداد مکمل کرنا چاہتے ہیں۔