hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 7957

.

سنن البيهقي

7957
Sunan Al Bayhaqi
(۷۹۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُومُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَاسَرْجِسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْبَصْرِیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمَسْعُودِیُّ عَنْ ہِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُکَیْمٍ قَالَ : کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا کَانَتِ اللَّیْلَۃُ الَّتِی یُشَکُّ فِیہَا مِنْ رَمَضَانَ قَامَ حِینَ یُصَلِّی الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ ہَذَا شَہْرٌ کَتَبَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ صِیَامَہُ ، وَلَمْ یَکْتُبْ عَلَیْکُمْ قِیَامَہُ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ یَقُومَ فَلْیَقُمْ فَإِنَّہَا مِنْ نَوَافِلِ الْخَیْرِ الَّتِی أَمَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہَا ، وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَلْیَنَمْ عَلَی فِرَاشِہِ وَلاَ یَقُلْ قَائِلٌ إِنْ صَامَ فُلاَنٌ صُمْتُ ، وَإِنْ قَامَ فُلاَنٌ قُمْتُ فَمَنْ صَامَ أَوْ قَامَ فَلْیَجْعَلْ ذَلِکَ لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ أَقِلُّوا اللَّغْوَ فِی بِیُوتِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلْیَعْلَمْ أَحَدُکُمْ أَنَّہُ فِی صَلاَۃٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلاَۃَ ، أَلاَ لاَ یَتَقَدَّمَنَّ الشَّہْرَ مِنْکُمْ أَحَدٌ ، صُومُوا لِرُؤْیَتِہِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْیَتِہِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَعُدُّوا شَعْبَانَ ثَلاَثِینَ، ثُمَّ لاَ تُفْطِرُوا حَتَّی یَغْسِقَ اللَّیْلُ عَلَی الظِّرَابِ۔[ضعیف]
(٧٩٥٤) عبداللہ بن حکیم (رض) فرماتے ہیں کہ عمر (رض) جب شک کی رات ہوتی ہے تو مغرب کی نماز کے بعد کھڑے ہوجاتے اور کہتے : یہ وہ مہینہ ہے جس کے روزے اللہ نے تم پر فرض کیے ہیں اور اس کے قیام کو فرض نہیں کیا ۔ جو تم میں سے قیام کی طاقت رکھتا ہے تو وہ قیام کرے بیشک یہ وہ نفلی نیکی ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے اور جو کوئی طاقت نہیں رکھتا وہ اپنے بستر پر سو جائے اور کوئی یہ نہ کہے کہ فلاں روزہ رکھے گا تو میں روزہ رکھوں گا اور اگر وہ قیام کرے گا تو میں قیام کروں گا ۔ سو جس کسی نے روزہ رکھا یا قیام کیا تو اس کو اللہ کے لیے کرے ۔ اللہ کے گھروں میں لغو بات کم کرو اور چاہیے کہ تم جان لو کہ جب تک کوئی نماز کے انتظار میں ہوتا ہے وہ نماز ہی میں ہوتا ہے۔ خبردار ! کوئی تم میں سے مہینے کی تقدیم نہ کرے۔ اس کے نظر آنے پر روزہ رکھو اور اس کے نظر آنے پر افطار کرو۔ اگر تم پر بادل چھاجائیں تو شعبان کے تیس دن شمار کرو۔ پھر تم افطار نہ کرو حتیٰ کہ رات ٹیلوں کے پیچھے چھپ جائے۔