(۷۹۸۳) وَرَوَاہُ مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ سُفْیَانَ فَزَادَ فِیہِ : فَإِذَا رَأَیْتُمُ الْہِلاَلَ أَوَّلَ النَّہَارِ فَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّی یَشْہَدَ رَجُلاَنِ ذَوَا عَدْلٍ أَنَّہُمَا أَہَلاَّہُ بِالأَمْسِ عَشِیَّۃً۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی مَنْصُورٌ فَذَکَرَہُ۔
قَالَ عَلِیٌّ قَالَ لَنَا أَبُو بَکْرٍ : إِنْ کَانَ مُؤَمَّلٌ حَفِظَہُ فَہُوَ غَرِیبٌ وَخَالَفَہُ إِمَامٌ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا اللَّفْظُ قَدْ رَوَاہُ شُعْبَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مِہْرَانَ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(٧٩٨٣) مؤمل بن اسماعیل سفیان (رض) سے فرماتے ہیں اور سفیان نے یہ الفاظ زائد کیے ہیں کہ جب تم چاند دن کے آغاز میں دیکھو تو روزہ افطار نہ کرو یہاں تک کہ دو سچے آدمی گواہی نہ دیں کہ انھوں نے کل شام چاند دیکھا ہے۔