(۷۹۹۸) قَالَ وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ قَیْسٍ الْمَکِّیُّ قَالَ قَالَ عَطَاء ٌ : رَجَعَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ عَنْ قَوْلِہِ رُجُوعًا حَسَنًا یَعْنِی فِی الْجُنُبِ إِذَا أَصْبَحَ وَلَمْ یَغْتَسِلْ۔
وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ الْمُنْذِرِ أَنَّہُ قَالَ : أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِی ہَذَا أَنْ یَکُونَ ذَلِکَ مَحْمُولاً عَلَی النَّسْخِ وَذَلِکَ أَنَّ الْجِمَاعَ کَانَ فِی أَوَّلِ الإِسْلاَمِ مُحْرِمًا عَلَی الصَّائِمِ فِی اللَّیْلِ بَعْدَ النَّوْمِ کَالطَّعَامِ وَالشَّرَابِ ، فَلَمَّا أَبَاحَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ الْجِمَاعَ إِلَی طُلُوعِ الْفَجْرِ جَازَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَصْبَحَ قَبْلَ یَغْتَسِلَ أَنْ یَصُومَ ذَلِکَ الْیَوْمَ لاِرْتِفَاعِ الْحَظْرِ۔ فَکَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ یُفْتِی بِمَا سَمِعَہُ مِنَ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ عَلَی الأَمْرِ الأَوَّلِ وَلَمْ یَعْلَمْ بِالنَّسْخِ ، فَلَمَّا سَمِعَ خَبَرَ عَائِشَۃَ وَأُمِّ سَلَمَۃَ صَارَ إِلَیْہِ۔
(٧٩٩٨) عمر بن قیس مکی (رض) فرماتے ہیں کہ عطاء نے کہا : ابوہریرہ (رض) نے جنبی کے بارے میں بہت اچھا رجوع کیا کہ جب وہ اس حالت میں صبح کرتے اور غسل نہ کرے۔
ابوبکر بن منذر فرماتے ہیں : اس سلسلے میں سب سے اچھی بات وہ ہے جو میں نے سنی ہے کہ یہ نسخ پر محمول ہے۔ دراصل ابتدائے اسلام میں سو جانے کے بعد کھانے پینے کی طرح جماع بھی حرام تھا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے جماع کو طلوعِ فجر تک جائز قرار دیا تو جنبی کے لیے یہ بھی جائز ہوگیا کہ وہ اس دن غسل کرنے سے پہلے روزہ رکھ لے، اس لیے کہ مم نوعیت ختم ہوگئی تھی۔ ابوہریرہ (رض) اسی کے مطابق فتوی دیتے تھے۔ جو انھوں نے فضل بن عباس (رض) سے سنا تھا اور انھیں منسوخ ہونے کا علم نہ تھا، پھر جب انھوں نے حضرت عائشہ اور ام سلمہ کی حدیث سنی تو اس کی طرف رجوع کرلیا۔