(۷۹۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ الْفَقِیہُ بِالطَّابِرَانِ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ حُصَیْنٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ {کُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الفَجْرِ} الآیَۃَ عَمَدْتُ إِلَی عِقَالَیْنِ عِقَالٍ أَبْیَضَ وَعِقَالٍ أَسْوَدَ فَجَعَلْتُہُمَا تَحْتَ وِسَادَتِی فَجَعَلْتُ أَقُومُ مِنَ اللَّیْلِ فَأُنْظُرُ فَلاَ یَتَبَیَّنُ لِی فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَخْبَرْتُہُ فَضَحِکَ وَقَالَ : ((إِنْ کَانَ وِسَادُکَ لَعَرِیضًا ، إِنَّمَا ذَاکَ بَیَاضُ النَّہَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّیْلِ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْہَالٍ عَنْ ہُشَیْمٍ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ حُصَیْنٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
(٧٩٩٩) عدی بن حاتم (رض) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت { کُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الفَجْرِ } نازل ہوئی تو میں نے دو دھاگے لیے ایک سفید اور ایک سیاہ اور انھیں اپنے تکیے کے نیچے رکھ دیا ، پھر میں رات کو اُٹھ کر دیکھ لیتا تو وہ میرے لیے واضح نہ ہوئے، جب میں نے صبح کی تو میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اپنا عمل بتایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیے اور فرمایا : تیرا تکیہ بہت چوڑا ہے۔ بیشک اس سے دن کی سفیدی کا رات کے اندھیرے سے جدا ہونامراد ہے۔