(۸۰۱۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ جَبَلَۃَ بْنِ سُحَیْمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ حَنْظَلَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ وَکَانَ أَبُوہُ صَدِیقًا لِعُمَرَ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فِی رَمَضَانَ فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ فَصَعِدَ الْمُؤَذِّنُ لِیُؤَذِّنَ فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ہَذِہِ الشَّمْسُ لَمْ تَغْرُبْ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : کَفَانَا اللَّہُ شَرَّکَ إِنَّا لَمْ نَبْعَثْکَ رَاعِیًا ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَنْ کَانَ أَفْطَرَ فَلْیَصُمْ یَوْمًا مَکَانَہُ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ بِمَعْنَاہُ أَبُو إِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیُّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حَنْظَلَۃَ وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عُمَرَ۔
[صحیح۔ انظر قبلہ]
(٨٠١٤) علی بن حنظلہ (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے والد کا والد عمر (رض) کے دوست تھے۔ وہ کہتے ہیں : میں ایک مرتبہ رمضان میں عمر (رض) کے پاس تھا تو انھوں نے روزہ افطار کیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کرلیا پھر موذن اذان کے لیے اُوپر چڑھاتو اس نے کہا : لوگو یہ رہا سورج ابھی تو غروب نہیں ہو اتو عمر (رض) نے کہا : اللہ ہمیں تیرے شر سے کافی ہو، ہم نے تجھے یہ دیکھنے کے لیے نہیں بھیجا۔ پھر عمر (رض) نے کہا : جس نے تم میں سے افطار کرلیا ہے وہ اس کے عوض ایک روزہ رکھے۔