(۸۰۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ زِیَادٍ یَعْنِی ابْنَ عِلاَقَۃَ عَنْ بِشْرِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَہُ عَشِیَّۃً فِی رَمَضَانَ وَکَانَ یَوْمَ غَیْمٍ فَظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ غَابَتْ فَشَرِبَ عُمَرُ وَسَقَانِی ، ثُمَّ نَظَرُوا إِلَیْہَا عَلَی سَفْحِ الْجَبَلِ فَقَالَ عُمَرُ : لاَ نَُبالِی وَاللَّہِ نَقْضِی یَوْمًا مَکَانَہُ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الْوَلِیدُ بْنُ أَبِی ثَوْرٍ عَنْ زِیَادٍ۔
وَفِی تَظَاہُرِ ہَذِہِ الرِوَایَاتِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْقَضَائِ دَلِیلٌ عَلَی خَطَإِ رِوَایَۃِ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ فِی تَرَکِ الْقَضَائِ ۔ وَہِیَ فِیمَا۔ [صحیح لغیرہ]
(٨٠١٥) بشر بن قیس عمربن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رمضان میں عمر (رض) کے پاس تھا اور اس دن بادل چھائے ہوئے تھے ، انھوں نے سمجھا کہ سورج غروب ہوچکا ہے تو عمر (رض) نے پیا اور مجھے بھی پلایا، پھر انھوں نے اسے پہاڑ کے دامن میں دیکھا تو عمر (رض) نے کہا : کوئی بات نہیں ہم اس کے عوض ایک روزہ رکھیں گے۔
عمربن خطاب (رض) سے ان روایات کا واضح آنا غلطی کی صورت میں قضا کے واجب ہونے کی دلیل ہے اور زید بن وھب کی روایت کے مطابق قضا کے ترک کی ہے۔