(۸۰۱۸) اسْتِدْلاَلاً بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلاَّبُ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ نَصْرٍ الرَّازِیَّانُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ سُوَیْدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ : قَالَ ہَشِشْتُ یَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ فَأَتِیتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : صَنَعْتُ الْیَوْمَ أَمْرًا عَظِیمًا قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَرَأَیْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَائٍ وَأَنْتَ صَائِمٌ))۔ قَالَ فَقُلْتُ : لاَ بَأْسَ بِذَلِکَ قَالَ رَسُولُ اللَّہ صلی اللہ علیہ وسلم- : ((فَفِیمَ))۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَإِنِ ازْدَرَدَہُ بَعْدَ الْفَجْرِ قَضَی یَوْمًا مَکَانَہُ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ۔ [صحیح۔ اخرجہ الحاکم]
(٨٠١٨) عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : ایک دن میں بیوی کے قریب ہوا اور بوسہ دیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں روزے سے تھا۔ میں نے کہا : میں نے آج بہت بڑا گناہ کیا ہے، کہ میں نے روزے کی حالت میں بوسہ دیا ہی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا کیا خیال ہے اگر تو روزے کی حالت میں پانی سے کلی کرے ۔ وہ کہتے ہیں : میں نے کہا : اس کا کوئی حرج نہیں ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر کس بات سے پریشان ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر بعد فجر لقمہ نگلا ہے تو اس کے عوض ایک دن کی قضاکرے گا