(۸۰۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزِیدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ : سُئِلَ الأَوْزَاعِیُّ عَنْ رَجُلٍ جَامَعَ امْرَأَتَہُ فِی رَمَضَانَ قَالَ : عَلَیْہِمَا کَفَّارَۃٌ وَاحِدَۃٌ إِلاَّ الصِّیَامَ۔ فَإِنَّ الصِّیَامَ عَلَیْہِمَا جَمِیعًا قِیلَ لَہُ : فَإِنِ اسْتَکْرَہَہَا قَالَ عَلَیْہِ الصِّیَامُ وَحْدَہُ۔ [صحیح۔ رجالہ ثقات]
(٨٠٦٤) عباس بن ولید فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبردی کہ اوزاعی سے کہ اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے تو انھوں نے فرمایا : ان دونوں پر ایک ہی کفارہ ہے، سوائے روزے کے مگر روزہ ان دنوں پر ہے انھیں کہا گیا کہ اگر عورت نہ چاہتی ہو تو انھوں نے فرمایا : پھر مرد اکیلے پر روزہ ہے۔