(۸۰۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا سَالِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْمَنَامِ فَرَأَیْتُہُ لاَ یَنْظُرُنِی فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا شَأْنِی؟ فَالْتَفَتَ إِلَیَّ فَقَالَ : أَلَسْتَ الْمُقَبِّلَ وَأَنْتَ الصَّائِمُ ۔ فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لاَ أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ امْرَأَۃً مَا بَقِیتُ۔
تَفَرَّدَ بِہِ عُمَرُ بْنُ حَمْزَۃَ فَإِنْ صَحَّ فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ قَوِیًا مِمَّا یُتَوَہَّمُ تَحْرِیکُ الْقُبْلَۃِ شَہْوَتَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ اخرجہ ابن ابی شبیہ]
(٨٠٩٢) عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نیند میں دیکھا مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے نہیں دیکھ رہے تھے۔ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا کیا معاملہ ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف دیکھا اور فرمایا : مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ! جب تک میں زندہ رہا میں نے عورت کو روزے کی حالت میں بوسہ نہیں دیا۔
عمر بن محمد فرماتے ہیں : اگر یہ بات درست ہے تو عمربن خطاب (رض) اس پر طاقت رکھتے ہیں ان لوگوں سے جنہیں بوسہ شہوت پر ابھارتا ہے۔