(۸۱۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی وَزَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی بْنِ أَبَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی أَضْحًی أَوْ فِطْرٍ إِلَی الْمُصَلَّی فَصَلَّی ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَامَ فَوَعَظَ النَّاسَ وَأَمَرَہُمْ بِالصَّدَقَۃِ فَقَالَ : ((أَیُّہَا النَّاسُ تَصَدَّقُوا))۔ ثُمَّ انْصَرَفَ فَمَرَّ عَلَی النِّسَائِ فَقَالَ : ((یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِّی أُرِیتُکُنَّ أَکْثَرَ أَہْلِ النَّارِ))۔ فَقُلْنَ : وَبِمَ ذَلِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : ((تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیرَ ، وَمَا رَأَیْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِینٍ أَذْہَبَ بِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاکُنَّ یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ))۔ فَقُلْنَ لَہُ : مَا نُقْصَانُ دِینِنَا وَعَقْلِنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ ؟ قَالَ : ((أَلَیْسَ شَہَادَۃُ الْمَرْأَۃِ مِثْلَ نِصْفِ شَہَادَۃِ الرَّجُلِ؟))۔ قُلْنَ : بَلَی قَالَ : ((فَذَلِکِ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِہَا أَوَلَیْسَ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَۃِ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ فَذَلِکِ مِنْ نُقْصَانِ دِینِہَا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ الْحُلْوَانِیِّ والصَّغَانِیِّ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری]
(٨١١١) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید الاضحی یا عید الفطر میں عیدگاہ کی طرف نکلے نماز پڑھی پھر کھڑے ہو کر لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور انھیں صدقہ کا حکم دیا اور فرمایا : اے لوگو ! صدقہ کرو، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورتوں کی طرف پھرگئے اور فرمایا : اے عورتوں کی جماعت ! صدقہ کرو ، میں نے تمہاری اکثریت کو دوزخ میں دیکھا ہے، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو اور میں نے تم سے زیادہ کم عقل کسی کو نہیں دیکھا اور تم دین میں بھی کم تر ہو، مگر عقل مند آدمی کی عقل کو ختم کردیتی ہو تو انھوں نے کہا : ہمارے دین میں کمی کیا ہے اور عقل میں کیا کمی ہے اے اللہ کے رسول ! تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا عورت کی گواہی مرد کی آدھی گواہی کے برابر نہیں۔ انھوں نے کہا : کیوں نہیں یہ تمہاری عقل کی کمی ہے اور کیا جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نہ روزہ رکھتی ہے اور نماز پڑھتی ہے، یہ تمہارے دین کا نقصان ہے۔