(۸۱۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ یَعْنِی الصَّیْدَلاَنِیَّ وَجَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ یَعْنِی الْحَافِظَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ مُعَاذَۃَ الْعَدَوِیَّۃِ: أَنَّ امْرَأَۃً سَأَلَتْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِی الصَّوْمَ وَلاَ تَقْضِی الصَّلاَۃَ؟ فَقَالَتْ لَہَا: أَحَرُورِیَّۃٌ أَنْتِ فَقَالَتْ: لَسْتُ بِحَرُورِیَّۃٍ وَلَکِنِّی أَسْأَلُ فَقَالَتْ: کَانَ یُصِیبُنَا ذَلِکَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فُنُؤْمَرُ بِقَضَائِ الصَّوْمِ وَلاَ نُؤْمَرُ بِقَضَائِ الصَّلاَۃِ۔
قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ مُعَاذَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ مِثْلَہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری]
(٨١١٢) معاذہ عدویہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے سیدہ عائشہ (رض) سے پوچھا : عورت کا کیا معاملہ ہے کہ روزے کی قضا کرتی ہے مگر نماز کی قضا نہیں کرتی تو سیدہ (رض) نے فرمایا : کیا تو حروریہ ہے ؟ اس نے کہا : میں حروریہ نہیں۔ بلکہ میں پوچھنا چاہتی ہوں تو سیدہ (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ہمارے ساتھ یہ معاملہ ہوتا تو ہمیں روزے کی قضا کا حکم دیا جاتا مگر نماز کی نہیں۔