(۸۱۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْفَقِیہُ بِالطَّابَرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ قَالَ : قَرَأْنَاہُ عَلَی أَبِی الْیَمَانِ فَأَنْبَأَنِی أَنَّہُ سَمِعَہُ مِنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ التَّنُوخِیِّ عَنْ عَطِیَّۃَ بْنِ قَیْسٍ عَنْ قَزَعَۃَ بْنِ یَحْیَی عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالرَّحِیلِ عَامَ الْفَتْحِ فِی لَیْلَتَیْنِ خَلَتَا مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ فَخَرَجْنَا صُوَّامًا حَتَّی بَلَغْنَا الْکَدِیدَ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالْفِطْرِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ شَرْجَیْنِ مِنْہُمُ الصَّائِمُ وَالْمُفْطِرُ حَتَّی إِذَا بَلَغْنَا الْمَنْزِلَ الَّذِی نَلْقَی الْعَدُوَّ فِیہِ أَمَرَنَا بِالْفِطْرِ فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعِینَ
وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ یُوسُفَ : حَتَّی إِذَا بَلَغَ الظَّہْرَانَ آذَنَنَا بِلِقَائِ الْعَدُوِّ فَأَمَرَنَا بِالْفِطْرِ فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعِینَ ۔
[صحیح۔ اخرجہ مسلم]
(٨١٤٨) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ ہمیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح والے سال میں کوچ کا حکم دیا ، رمضان کی دو راتیں گزرچکیں تھیں توہم روزے کی حالت میں نکلے حتیٰ کہ ہم کدید مقام پر پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں افطار کا حکم دیا تو لوگ دو حصوں میں ہوگئے۔ ان میں سے صائم بھی تھے اور مفطر بھی تھے حتیٰ کہ ہم اس مقام پر پہنچے جہاں ہم نے دشمن سے ملنا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے افطارکا حکم دیا تو ہم سب نے افطار کرلیا۔
ابن یوسف کی ایک روایت میں ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرظہران پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں دشمن سے مقابلہ کرنے کا حکم دیا تو ہمیں روزہ افطار کرنے کو کہا تو ہم سب نے افطار کرلیا۔