(۸۱۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ قَالَ قَالَ عُبَیْدَۃُ : إِذَا سَافَرَ الرَّجُلُ وَقَدْ صَامَ رَمَضَانَ شَیْئًا فَلْیَصُمْ مَا بَقِیَ قَالَ : وَقَرَأَ ہَذِہِ الآیَۃَ {فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} قَالَ وَقَالَ أَبُو الْبَخْتَرِیِّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَکَانَ أَفْقَہَ مِنَّا : مَنْ شَائَ صَامَ وَمَنْ شَائَ أَفْطَرَ۔
(٨١٧٧) ابوالبختری فرماتے ہیں کہ عبیدہ نے کہا : جب آدمی سفر کرے اور رمضان کا روزہ بھی رکھا ہو تو باقی بھی پورا کرلے اور یہ آیت تلاوت کی : { فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ } جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطار کرے۔
ابو البختری ابن عباس کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ ہم سے زیادہ سمجھ دار ہیں، سو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطارکرے۔