(۸۱۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ
(ح) وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی الْمَعْنَی عَنْ سَعِیدٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی أَیُّوبَ زَادَ جَعْفَرٌ وَاللَّیْثُ قَالَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ : أَنَّ کُلَیْبَ بْنَ ذُہْلٍ الْحَضْرَمِیَّ أَخْبَرَہُ عَنْ عُبَیْدٍ قَالَ جَعْفَرٌ : ابْنِ جَبْرٍ قَالَ : کُنْتُ مَعَ أَبِی بَصْرَۃَ الْغِفَارِیِّ صَاحِبِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی سَفِینَۃٍ مِنَ الْفُسْطَاطِ فِی رَمَضَانَ فَدَفَعَ ، ثُمَّ قَرَّبَ غَدَائَ ہُ قَالَ جَعْفَرٌ فِی حَدِیثِہِ فَلَمْ یُجَاوِزِ الْبُیُوتَ حَتَّی دَعَا بِالسُّفْرَۃِ قَالَ : اقْتَرِبْ۔ قَالَ قُلْتُ : أَلَیْسَ تَرَی الْبُیُوتَ؟ قَالَ أَبُو بَصْرَۃَ : أَتَرْغَبُ عَنْ سُنَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ جَعْفَرٌ فِی حَدِیثِہِ فَأَکَلَ۔
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداؤد]
(٨١٧٨) جعفر بن جبیر فرماتے ہیں : میں ابی بصرہ غفاری کے ساتھ تھا، جو کشتی میں رمضان میں فسطاط کے سفر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا تو انھوں نے لوٹایا، پھر کھانا قریب کرلیا ۔ جعفر نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ وہ گھر سے ابھی دور نہیں گئے تھے کہ انھوں نے سفر کا کھانا منگوالیا اور کہا کہ تو قریب ہو۔ وہ کہتے ہیں : میں نے کہا : کیا تو گھروں کو نہیں دیکھ رہا تو ابو بصرہ نے کہا : کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے اعراض کرتا ہے ؟ جعفر نے اپنی حدیث میں بیان کیا ، پھر انھوں نے کھالیا۔