(۸۱۹۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَیْرٍ الْخَلَدِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الطَّالْقَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ قَالَ : أَصْبَحَ النَّاسُ صِیَامًا لِتَمَامِ ثَلاَثِینَ فَجَائَ رَجُلاَنِ فَشَہِدَا أَنَّہُمَا رَأَیَا الْہِلاَلَ بِالأَمْسِ۔ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- النَّاسَ فَأَفْطَرُوا۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ بَشَّارٍ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
(٨١٩٠) ابو مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ تیس کی صبح لوگوں نے روزے کی حالت میں کی ۔ پھر دو آدمی آئے اور انھوں نے گواہی دی کہ انھوں نے کل چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو افطار کرنے کا حکم دے دیا۔