(۸۱۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ : أَہْلَلْنَا ہِلاَلَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِخَانِقِینَ فَمِنَّا مَنْ صَامَ ، وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ قَالَ فَجَائَ نَا کِتَابُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِذَا رَأَیْتُمُ الْہِلاَلَ نَہَارًا فَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّی یَشْہَدَ شَاہِدَانِ مُسْلِمَانِ أَنَّہُمَا رَأَیَاہُ بِالأَمْسِ۔ قَالَ الشَّیْخُ : یُرِیدُ بِہِ ہِلاَلَ آخِرِ رَمَضَانَ۔
[صحیح۔ اخراجہ ابن البعد]
(٨١٩١) ابو وائل (رض) فرماتے ہیں کہ ہم پر رمضان کا چاند طلوع ہوا اور ہم خانقین میں تھے تو ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے افطار کیا تو عمر (رض) کی تحریر ہمارے پاس آئی کہ جب تم دن میں چاند دیکھو پھر افطار نہ کرو حتیٰ کہ دو آدمی گواہی نہ دیں کہ انھوں نے چاند دیکھا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد رمضان کے آخر کا چاند ہے۔