(۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو طَلْحَۃَ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْکَرِیمِ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ بِبَیْرُوتَ حَدَّثَنَا أَبُو أَیُّوبَ: سُلَیْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ-تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-یَقُولُ: ((لاَ بَأْسَ بِمَسْکِ الْمَیْتَۃِ إِذَا دُبِغَ ، وَلاَ بَأْسَ بِصُوفِہَا وَشَعَرِہَا وَقُرُونِہَا إِذَا غُسِلَ بِالْمَائِ))
(ج) قَالَ عَلِیٌّ: یُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ مَتْرُوکٌ وَلَمْ یَأْتِ بِہِ غَیْرُہُ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْقَبَّانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ قَالَ: یُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ أَبُو الْفَیْضِ کَاتِبُ الأَوْزَاعِیِّ مُنْکَرُ الْحَدِیثِ۔
[باطل۔ أخرجہ المؤلف فی المعرفۃ ۳۵]
(٨٣) ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ میں نے ام المومنین ام سلمہ (رض) سے سنا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : مردار کو کھال رنگنے کے بعد استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح اس کی اون، بال اور سینگ بھی جب انھیں دھو لیا جائے۔
علی کہتے ہیں کہ علی بن یوسف متروک ہے، اس کے علاوہ اس حدیث کو کوئی بیان نہیں کرتا۔
(ب) امام محمد بن اسماعیل بخاری (رح) کہتے ہیں کہ ابوفیض یوسف بن سفر جو اوزاعی کا کاتب ہے منکر الحدیث ہے۔