(۸۲۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَاشِمٍ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ حَدَّثَنِی جُوَیْرِیَۃُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ کَانَ یَقُولُ : مَنْ أَفْطَرَ فِی رَمَضَانَ أَیَّامًا وَہُوَ مَرِیضٌ ، ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ یَقْضِیَ فَلْیُطْعِمْ عَنْہُ مَکَانَ کُلِّ یَوْمٍ أَفْطَرَہُ مِنْ تِلْکَ الأَیَّامِ مِسْکِینًا مُدًّا مِنْ حِنْطَۃٍ ، فَإِنْ أَدْرَکَہُ رَمَضَانُ عَامَ قَابِلٍ قَبْلَ أَنْ یَصُومَہُ فَأَطَاقَ صَوْمَ الَّذِی أَدْرَکَ فَلْیُطْعِمْ عَمَّا مَضَی کُلَّ یَوْمٍ مِسْکِینًا مُدًّا مِنْ حِنْطَۃٍ وَلْیَصُمِ الَّذِی اسْتَقْبَلَ۔
ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحِ مَوْقُوفٌ عَلَی ابْنِ عُمَرَ ، وَقَدْ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ نَافِعٍ فَأَخْطَأَ فِیہِ۔ [صحیح۔ رجالہ ثقات]
(٨٢١٦) نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ کہا کرتے تھے : جس نے رمضان میں مرض کی وجہ سے کچھ دن افطار کیا۔ پھر وہ قضا سے پہلے ہی فوت ہوگیا تو اس کی جانب سے ہر د ن کے عوض ایک مسکین کو ایک مد کھانا دیا جائے، ان تمام دنوں کے عوض۔ اگر اسے آئندہ رمضان آئے اس کے روزے رکھنے سے پہلے اور وہ اس کے روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے تو جو گزر چکے ہیں، ان کے عوض مسکین کو ایک مد گندم دے اور جو رمضان گزر رہا ہے اس کے روزے رکھے۔