(۸۲۱۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ الْبَخْتَرِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا شَرِیکٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْن عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الَّذِی یَمُوتُ وَعَلَیْہِ رَمَضَانُ وَلَمْ یَقْضِہِ قَالَ : یُطْعَمُ عَنْہُ لِکُلِّ یَوْمٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ۔
ہَذَا خَطَأٌ مِنْ وَجْہَیْنِ
أَحَدُہُمَا رَفْعُہُ الْحَدِیثَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَإِنَّمَا ہُوَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ
وَالآخَرُ قَوْلُہُ نِصْفُ صَاعٍ ، وَإِنَّمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ : مُدًّا مِنْ حِنْطَۃٍ ، وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی لَیْسَ فِیہِ ذِکْرُ الصَّاعِ۔ [منکر۔ ابن ابی لیلٰی]
(٨٢١٧) ابن عمر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ جو فوت ہوگیا اور اس کے ذمے رمضان کے وہ روزے ہیں جس کی قضا نہیں کر سکاتو ہر دن کے عوض مسکین کو نصف صاع کھانا دیا جائے۔
یہ دو لحاظ سے غلط ہی ایک یہ کہ اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوعاً بیان کیا جب کہ وہ ابن عمر (رض) کا قول ہے۔ دوسری یہ کہ وہ آدھا صاع ہے جب کہ ابن عمر (رض) نے فرمایا : گندم کا ایک مد۔ دوسری روایت ابن ابی لیلیٰ سے ہے جس میں صاع کا تذکرہ نہیں۔