(۸۲۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ قَالَ : سُئِلَ سَعِیدٌ یَعْنِی ابْنَ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَیْہِ رَمَضَانَانِ وَلَمْ یَصِحَّ بَیْنَہُمَا فَأَخبَرنَا عَنْ أَبِی یَزِیدَ الْمَدَنِیِّ : أَنَّ رَجُلاً مَاتَ وَعَلَیْہِ رَمَضَانَانِ فَأَوْصَی أَنْ یَسْأَلُوا الْفُقَہَائَ مَا یُکَفِّرُہُمَا وَاقْضُوا عَنِّی دَیْنِی وَابْدَئُ وا بِدَیْنِ اللَّہِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ قَالَ فَأَتَوُا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: عَلَیْہِ إِطْعَامُ سِتِّینَ مِسْکِینًا فَرَجَعُوا إِلَی ابْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرُوہُ فَقَالَ: صَدَقَ کَذَلِکَ فَاصْنَعُوا۔[ضعیف]
(٨٢٣٣) عبدا لوہاب بن عطا فرماتے ہیں کہ سعید بن عروبہ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا ، جس پر دو رمضان ہوں اور وہ ان دونوں میں تندرست نہ ہو تو انھوں نے ہمیں ابو یزید مولیٰ سے نقل فرمایا کہ ایک آدمی فوت ہوا اور اس پر دو رمضان تھے تو اس نے وصیت کی کہ فقہا سے پوچھا جائے : ان کا کفارہ کیا ہے اور مجھ سے میرا قرض بھی اداکرو اور ابتدا اللہ کے قرض سے کرنا۔ حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ وہ ابن عباس (رض) کے پاس آئے تو انھوں نے کہا : اس پر ساٹھ مساکین کا کھانا ہے تو وہ وہاں سے ابن عمر (رض) کی طرف واپس پلٹ آئے تو انھوں نے کہا : ابن عباس (رض) نے سچ کہا ہے سو تم ایسے ہی کرو۔