(۸۲۴۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ وَزُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ وَہَذَا حَدِیثُہُ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ : شَہِدْتُ الْعِیدَ مَعَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَبَدَأَ بِالصَّلاَۃِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنْ صِیَامِ ہَذَیْنِ الْیَوْمَیْنِ أَمَّا یَوْمُ الأَضْحَی فَتَأْکُلُونَ مِنْ نُسُکِکُمْ وَأَمَّا یَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُکُمْ مِنْ صِیَامِکُمْ۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد]
(٨٢٤٩) ابو عبید فرماتے ہیں کہ میں عمربن خطاب (رض) کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو انھوں نے خطبہ سے پہلے نماز سے ابتدا کی۔ پھر فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دو دن کے روزوں سے منع کیا ، جو یوم الاضحی ہے ، اس میں تم قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو اور جو یوم الفطر ہے یہ تمہارے روزوں سے افطار کا دن ہے۔