(۸۳۲۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ قَالَ حَدَّثَنِی حُمَیْدٌ قَالَ : لَمْ یُطِقْ أَنَسٌ صَوْمَ رَمَضَانَ عَامَ تُوُفِّیَ وَعَرَفَ أَنَّہُ لاَ یَسْتَطِیعُ أَنْ یَقْضِیَہُ فَسَأَلْتُ ابْنَہُ عُمَرَ بْنَ أَنَسٍ : مَا فَعَلَ أَبُو حَمْزَۃَ؟ فَقَالَ : جَفَّنَّا لَہُ جِفَانًا مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ فَأَطْعَمْنَا الْعِدَّۃَ أَوْ أَکْثَرَ یَعْنِی مِنْ ثَلاَثِینَ رَجُلاً لِکُلِّ یَوْمٍ رَجُلاً۔ [رجالہ ثقات]
(٨٣٢١) حمید بیان کرتے ہیں کہ جس سال انس (رض) فوت ہوئے تو وہ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور انھوں نے جان لیا کہ قضاء بھی نہیں دے سکیں گے تو میں نے ان کے بیٹے عمر سے پوچھا کہ ابو حمزہ (رض) نے کیا کیا ؟ انھوں نے کہا : ایک ٹب روٹی اور گوشت کا تیار کیا گیا تو اتنوں یا زیادہ مسکینوں کو کھانا کھلادیا، یعنی تیس افراد کو ہر دن کے عوض ایک آدمی۔