(۸۳۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو ذَرٍّ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْقَاسِمِ الْمُذَکِّرُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : أَحْمَدُ بْنُ الْمُبَارَکِ الْمُسْتَمْلِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِی صَغِیرَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَاسْتَسْقَی فَشَرِبَ فَنَاوَلَنِی سُؤْرَہُ وَأَنَا صَائِمَۃٌ فَشَرِبْتُ سُؤْرَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَعَلْتُ شَیْئًا لاَ أَدْرِی أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ نَاوَلْتَنِی سُؤْرَکَ وَأَنَا صَائِمَۃٌ فَکَرِہْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((أَمُتَطَوِّعَۃٌ أَمْ قَضَائٌ مِنْ رَمَضَانَ؟))۔ قُلْتُ : مُتَطَوِّعَۃٌ قَالَ : ((الْمُتَطَوِّعُ بِالْخِیَارِ إِنْ شَائَ صَامَ ، وَإِنْ شَائَ أَفْطَرَ))۔ [ضعیف۔ اخرجہ الترمذی]
(٨٣٤٦) ابو صالح ام ھانی (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی طلب کیا اور اسے پی لیا اور اپنا بچا ہوا مجھے دیا تو میں صائمہ تھی مگر میں نے پی لیا ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے ایک کام کیا ہے معلوم نہیں میں نے درست کیا یا غلط ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنا بچا ہوا پانی دیا اور میں روزے سے تھی مگر میں نے پی لیا اس لیے کہ میں نے واپس کرنا ناپسند سمجھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بچا ہوا لوٹا لاؤں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے نفلی روزہ رکھا یا رمضان کی قضاء کا ؟ میں نے کہا : نفلی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نفلی روزہ مرضی سے ہے چاہو تو رکھ لو چاہو تو افطار کرلو۔