(۸۳۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ ہَارُونَ ابْنِ أُمِّ ہَانِئٍ عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ بِنْتِ أَبِی طَالِبٍ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَدَعَوْتُ لَہُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ أَوْ قَالَتْ دَعَا بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ، ثُمَّ نَاوَلَنِی فَشَرِبْتُ وَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی کُنْتُ صَائِمَۃً وَلَکِنِّی کَرِہْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنْ کَانَ قَضَائً مِنْ رَمَضَانَ فَصُومِی یَوْمًا مَکَانَہُ ، وَإِنْ کَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِی وَإِنْ شِئْتِ فَلاَ تَقْضِی))۔ [ضعیف۔ معنیٰ لکلام]
(٨٣٦٠) اُم ھانی بنت ابی طالب (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس آئے ۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے پانی منگوایا تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیا۔ پھر مجھے دے دیا تو میں نے بھی پیا اور میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں تو صائمہ تھی لیکن میں نے نہ چاہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بچا ہوا پانی واپس لوٹاؤں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر رمضان کے مہینے کی قضاء تھی تو پھر اس کے عوض ایک دن کا روزہ رکھ۔ اگر نفلی روزہ تھا پھر تو چاہے تو قضاء دے چاہے اگر چاہے تو قضاء نہ دے۔