(۸۳۶۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ ہَارُونَ ابْنِ بِنْتِ أُمِّ ہَانِئٍ - أَوِ ابْنِ ابْنِ أُمِّ ہَانِئٍ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ -ﷺ- یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَنَاوَلَنِی فَضْلَ شَرَابِہِ فَشَرِبْتُہُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی کُنْتُ صَائِمَۃً وَإِنِّی کَرِہْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَکَ فَقَالَ : ((إِنْ کَانَ قَضَائً مِنْ رَمَضَانَ فَصُومِی یَوْمًا مَکَانَہُ ، وَإِنْ کَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِیہِ ، وَإِنْ شِئْتِ فَلاَ تَقْضِیہِ))۔ [ضعیف]
(٨٣٦١) اُم ھانی بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے فتح مکہ کے دن تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا بچا ہوا پانی مجھے دیا تو میں نے اسے پی لیا : پھر میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں تو صائمہ تھی مگر میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بچاہوا پانی واپس کرنا پسند نہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر رمضان کے روزوں کی قضاء تھی تو اس کے عوض ایک روزہ رکھ اور نفلی روزہ تھا تو پھر تیری مرضی ہے کہ چاہے تو اس کے عوض ایک روزہ رکھ اور اگر نفلی تھا تو پھر تیری مرضی ہے کہ چاہے تو قضائی دے یا نہ دے۔