(۸۳۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ نَضَحَ فِی عَیْنَیْہِ الْمَائَ ۔
قَالَ مَالِکٌ : لَیْسَ عَلَیْہِ الْعَمَلُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : لَیْسَ عَلَیْہِ أَنْ یَنْضَحَ فِی عَیْنَیْہِ لأَنَّہُمَا لَیْسَتَا ظَاہِرَتَیْنِ مِنْ بَدَنِہِ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ مَرْفُوعًا وَلاَ یَصِحُّ سَنَدُہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک ۵۴]
(٨٣٨) سیدنا ابن عمر (رض) جب غسل جنابت کرتے تو اپنی آنکھوں میں پانی کے چھینٹے مارتے۔ (ب) امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ اس پر عمل نہیں ہے۔ (ج) شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ آنکھوں پر چھینٹے مارنا ضروری نہیں ہے ؛اس لیے کہ یہ بدن میں ظاہر نہیں ہیں۔ (د) شیخ کہتے ہیں : یہ روایت مرفوع بھی بیان کی گئی ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں۔