(۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِیعِ بْنِ طَارِقٍ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ أَنَّ أَبَا الْخَیْرِ حَدَّثَہُ قَالَ: رَأَیْتُ عَلَی ابْنِ وَعْلَۃَ السَّبَائِیِّ فَرْوًا فَمَسِسْتُہُ فَقَالَ: مَا لَکَ تَمَسُّہُ؟ قَدْ سَأَلْتُ عَنْہُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: إِنَّا نَکُونُ بِالْمَغْرِبِ وَمَعَنَا الْبَرْبَرُ وَالْمَجُوسُ ، نُؤْتَی بِالْکَبْشِ فَیَذْبَحُونَہُ وَنَحْنُ لاَ نَأْکُلُ ذَبَائِحَہُمْ ، وَنُؤْتَی بِالسِّقَائِ فِیہِ الْوَدَکُ۔فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-قَالَ: ((دِبَاغُہُ طَہُورُہُ))
رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَیْرِہِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الرَّبِیعِ۔
[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۰۶]
(٨٥) ابو الخیر کہتے ہیں کہ میں نے علی بن وعلہ سبائی پر بالوں کا بنا ہوا لباس دیکھا تو میں نے اس کپڑے کو چھوا، انھوں نے پوچھا : تم اس کو چھو کر کیوں دیکھ رہے ہوں ؟ میں نے عبداللہ بن عباس (رض) سے سوال کیا کہ ہم مغرب میں بربر اور مجوس قوم کے ساتھ رہتے ہیں اور ہمارے پاس مینڈھے لائے جاتے ہیں وہ ذبح کرتے تھے ہم ان کا ذبیحہ نہیں کھاتے تھے۔ ہمارے پاس مشکیزے لائے جاتے ہیں جن میں چربی ہوتی ہے ؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس کا رنگنا اس کا پاک کرنا ہے۔ “