(۸۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَدِیٍّ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ حُبَابٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِی حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِیہٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((تَحْتَ کُلِّ شَعْرَۃٍ جَنَابَۃٌ ، فَبُلُّوا الشَّعَرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَۃَ)) ۔
تَفَرَّدَ بِہِ ہَکَذَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِیہٍ۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ : سَأَلْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ وَجِیہٍ فَقَالَ : لَیْسَ حَدِیثُہُ بِشَیْئٍ ۔
وَأَنْکَرَہُ غَیْرُہُ أَیْضًا مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ الْبُخَارِیُّ وَأَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ وَغَیْرُہُمَا ، وَإِنَّمَا یُرْوَی عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -مُرْسَلاً۔
وَعَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَوْقُوفًا ، وَعَنِ النَّخَعِیِّ۔ کَانَ یُقَالُ۔
وَقَدْ حَمَلَہُ الشَّافِعِیُّ فِی رِوَایَۃِ الزَّعْفَرَانِیِّ وَغَیْرِہِ عَنْہُ عَلَی مَا ظَہَرَ وَدَاخِلِ الأَنْفِ وَالْفَمِ مِمَّا بَطْنَ ، فَأَشْبَہَ دَاخِلَ الْعَیْنَیْنِ وَدَاخِلَ الأُذُنَیْنِ ، فَقَالَ مَنْ تَکَلَّمَ فِیہَا مَعَ الشَّافِعِیِّ : الْقِیَاسُ أَنْ لاَ یُعِیدَ وَلَکِنَّا أَخَذْنَا بِالأَثَرِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ یَعْنِی۔ [ضعیف]
(٨٤٩) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہر بال کے نیچے جنابت ہے بالوں کو تر کرو اور جلد کو اچھی طرح صاف کرو۔ “
(ب) حارث بن وجیہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی کوئی حیثیت نہیں۔
(ج) محدثین میں سے امام بخاری (رح) ، امام ابوداؤد (رح) اور دوسروں نے اس کا انکار کیا ہے۔ حسن بصری (رح) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرسل روایت بیان کرتے ہیں، اسی طرح امام حسن بصری سیدنا ابوہریرہ (رض) سے موقوف روایت بیان کرتے ہیں، امام نخعی (رح) سے بھی اسی طرح نقل کیا گیا ہے۔
(د) امام شافعی (رح) نے اس بات پر محمول کیا ہے کہ ناک اور منہ پوشیدہ اعضاء میں داخل ہیں، انھوں نے آنکھوں اور کانوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ شیخ کہتے ہیں کہ جس نے امام شافعی (رح) کے ساتھ اس مسئلہ میں کلام کیا تو قیاس یہ ہے کہ وہ غسل نہیں دہرائے گا لیکن ہم نے سیدنا ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے۔