hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 849

.

سنن البيهقي

849
Sunan Al Bayhaqi
(۸۵۰) مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا أَبُو حَنِیفَۃَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ عَجْرَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لاَ یُعِیدُ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ جُنُبًا یَعْنِی الْمَضْمَضَۃَ وَالاِسْتِنْشَاقَ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عُثْمَانَ۔ قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ : لَیْسَ لِعَائِشَۃَ بِنْتِ عَجْرَدٍ إِلاَّ ہَذَا الْحَدِیثُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ: أَثَرُہُ الَّذِی یَعْتَمِدُ عَلَیْہِ عُثْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ عَجْرَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَزَعَمَ أَنَّ ہَذَا الأَثَرَ ثَابِتٌ یُتْرَکُ لَہُ الْقِیَاسُ وَہُوَ یَعِیبُ عَلَیْنَا أَنْ نَأْخُذَ بِحَدِیثِ بُسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ وَعُثْمَانُ وَعَائِشَۃُ غَیْرُ مَعْرُوفِینَ بِبَلَدِہِمَا، وَکَیْفَ یَجُوزُ لأَحَدٍ یَعْلَمُ أَنْ یُثَبِّتَ ضَعِیفًا مَجْہُولاً وَیُوَہِّنَ قَوِیًّا مَعْرُوفًا۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَرَوَاہُ الْحَجَّاجَ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ عَجْرَدٍ۔ وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ لَیْسَ بِحَجَّۃٍ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۱۵]
(٨٥٠) سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں وہ دوبارہ (غسل) نہیں کرے گا مگر جنبی ہوا تو کرے گا۔ یعنی کلی اور ناک میں پانی چڑھائے گا۔
(ب) علی بن عمر فرماتے ہیں کہ عائشہ بنت عجرد کی سیدنا ابن عباس (رض) سے یہی روایت ہے۔
(ج) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ان کا اثر وہ ہے جس کی سند عثمان بن راشد عن عائشہ بنت عجرد عن ابن عباس (رض) ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ حدیث ثابت ہے۔ اس کی وجہ سے قیاس کو ترک کردیا جائے گا اور یہ ہم پر عیب ہے کہ ہم حدیث بسرہ بنت صفوان (رض) کو لیں۔
(د) عثمان اور عائشہ غیر معروف ہیں اور ان کے شہروں کا علم نہیں۔ شیخ کہتے ہیں : اس حدیث کو حجاج بن ارطاۃ عن عائشہ بنت عجرد روایت کیا گیا ہے۔ حجاج بن ارطاۃ قابل حجت نہیں۔