(۸۴۹۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ قَالَ : مَا زِلْتُ لَہُ کَاتِمًا ثُمَّ رَأَیْتُہُ انْتَشَرَ یَعْنِی حَدِیثَ ابْنِ بُسْرٍ ہَذَا فِی صَوْمِ یَوْمِ السَّبْتِ۔
وَقَدْ مَضَی فِی حَدِیثِ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی الْبَابِ قَبْلَہُ مَا دَلَّ عَلَی جَوَازِ صَوْمِ یَوْمِ السَّبْتِ ، وَکَأَنَّہُ أَرَادَ بِالنَّہْیِ تَخْصِیصَہُ بِالصَّوْمِ عَلَی طَرِیقِ التَّعْظِیمِ لَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ ابوداؤد]
(٨٤٩٦) اوزاعی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ہمیشہ چھپاتا رہا مگر میں نے دیکھا کہ یہ بات لکھ چکی ہے یعنی ابن بسر کی حدیث جو ہفتے کے روزے کے بارے میں ہے۔
(جویریہ بنت حارث کی حدیث اس سے پہلے باب میں گذر چکی ہے جو ہفتے کے دن کے روزے کے جواز میں ہے گویا منع کرنے کا مقصد اس دن کا روزہ تعظیماً رکھتا ہے۔ )