(۸۵۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو الطِّیبِ الْمُظَفَّرِ بْنُ سَہْلٍ الْخَلِیلِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَیُّوبَ بْنِ حَسَّانَ الْوَاسِطِیُّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلاً سَأَلَ سُفْیَانَ بْنَ عُیَیْنَۃَ فَقَالَ : یَا أَبَا مُحَمَّدٍ فِیمَا یَرْوِیہِ النَّبِیُّ -ﷺ- عَنْ رَبِّہِ عَزَّ وَجَلَّ : ((کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَہُ إِلاَّ الصَّوْمَ فَإِنَّہُ لِی وَأَنَا أَجْزِی بِہِ))۔
فَقَالَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ : ہَذَا مِنْ أَجْوَدِ الأَحَادِیثِ وَأَحْکَمِہَا إِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ یُحَاسِبُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدَہُ وَیُؤَدِّی مَا عَلَیْہِ مِنَ الْمَظَالِمِ مِنْ سَائِرِ عَمَلِہِ حَتَّی لاَ یَبْقَی إِلاَّ الصَّوْمُ فَیَتَحَمَّلُ اللَّہُ مَا بَقِیَ عَلَیْہِ مِنَ الْمَظَالِمِ وَیُدْخِلُہُ بِالصَّوْمِ الْجَنَّۃَ۔ [ضعیف۔ اخرجہ المؤلف]
(٨٥١٠) اسحاق بن ایوب واسطی (رض) اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک آدمی کوسنا جو سفیان بن عینیہ سے کہہ رہا تھا : اے محمد ! اس کے متعلق بیان کریں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب سے بیان کرتے ہیں کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا بھی میں ہی دونگا تو ابن عینیہ نے کہا : یہ اعلیٰ احادیث میں سے ہے اور محکم ہے۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ اپنے بندے کا حساب لے گا اور جس قدر مظالم اس پر ہوں گے انھیں اد اکردیگا۔ اس کے تمام اعمال سے حتیٰ کہ صرف روزہ باقی ہوگا جو باقی ماندہ مظالم ہوں گے ۔ اللہ اسے ہٹا دے گا اور روزے کے ساتھ جنت میں داخل کردے گا۔