(۸۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْبَخْتَرِیِّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ وَہُوَ ابْنُ مُہَاجِرٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ أَسْمَائَ یَعْنِی بِنْتَ شَکَلٍ سَأَلَتِ النَّبِیَّ -ﷺ -عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْحَیْضِ فَقَالَ : تَأْخُذُ إِحْدَاکُنَّ مَائَ ہَا وَسِدْرَتَہَا فَتَطَّہَّرُ ، فَتُحْسِنُ الطُّہُورَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَی رَأْسِہَا الْمَائَ وَتَدْلُکُہُ دَلْکًا شَدِیدًا حَتَّی تَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِہَا ثُمَّ تَصُبُّ عَلَیْہَا الْمَائَ ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَۃً مُمَسَّکَۃً تَطَّہَّرُ بِہَا۔ قَالَتْ : کَیْفَ أَتَطَہَّرُ بِہَا؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّہِ تَطَہَّرِی بِہَا۔ وَاسْتَتَرَ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: تَتَبَّعِی بِہَا أَثَرَ الدَّمِ، وَسَأَلَتْہُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَۃِ فَقَالَ: تَأْخُذِینَ مَائَ کِ فَتَطَہَّرِینَ أَحْسَنَ الطُّہُورَ وَأَبْلَغَہُ ، ثُمَّ تَصُبِّینَ عَلَی رَأْسِکِ الْمَائَ ، ثُمَّ تَدْلُکِیہِ حَتَّی یَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِکِ، ثُمَّ تُفِیضِینَ عَلَیْکِ الْمَائَ۔ وَقَالَتْ عَائِشَۃُ: نِعْمَ النِّسَائُ نِسَائُ الأَنْصَارِ لَمْ یَکُنْ یَمْنَعُہُنَّ الْحَیَائُ أَنْ یَسْأَلْنَ عَنِ الدِّینِ وَیَتَفَقَّہْنَ فِیہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ کَذَا فِی کِتَابِنَا : شُئُونَ ۔ وَأَہْلُ اللُّغَۃِ یَقُولُونَ سُورَ أَوْ شَوَی وَقَالُوا : سُورُہُ أَعْلاَہُ ، وَشَوَاہُ جِلْدُہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۳۲]
(٨٥٣) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ اسماء بنت شکل (رض) نے حیض کے غسل کے متعلق سوال کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تو بیری کے پتوں اور پانی کے ساتھ اچھی طرح طہارت حاصل کر، پھر اپنے سر پر پانی ڈال اور اچھی طرح اس کو مل یہاں تک کہ بالوں کے اندر پہنچ جائے، پھر اس پر پانی ڈال، پھر خوشبو لگا ہوا روئی کا پھایا لے اس سے طہارت حاصل کر۔ فرماتی ہیں : میں نے کہا : میں اس سے کس طرح طہارت حاصل کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” سبحان اللہ ! اس سے طہارت حاصل کر اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پردہ کیا۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : اس کو خون کے نشان پر لگا اور اس نے جنابت کے غسل کے متعلق سوال کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانی لے اس سے اچھی طرح طہارت حاصل کر اور اس کو (اچھی طرح جلد تک) پہنچا ۔ پھر اپنے سر پر پانی ڈال پھر اس کو مل یہاں تک کہ بالوں کے اندر تک پہنچ جائے، پھر اپنے اوپر پانی ڈال لے۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : بہترین عورتیں انصار کی عورتیں ہیں ان کو حیا نہیں روکتی کہ وہ دین کے متعلق سوال کریں اور اس کو سمجھیں۔