hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 8561

.

سنن البيهقي

8561
Sunan Al Bayhaqi
(۸۵۵۸) وَأَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو الْقَاسِمِ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِیٍّ الْفَامِیُّ بِبَغْدَادَ فِی مَسْجِدِ الرُّصَافَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَیْلاَنَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَۃَ وَعَاصِمٍ أَنَّہُمَا سَمِعَا عِکْرِمَۃَ یَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ : دَعَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَصْحَابَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَسَأَلَہُمْ عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ فَأَجْتَمَعُوا أَنَّہَا فِی الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ۔ فَقُلْتُ لِعُمَرَ : إِنِّی لأَعْلَمُ وَإِنِّی لأَظُنُّ أَیَّ لَیْلَۃٍ ہِیَ۔ قَالَ وَأَیُّ لَیْلَۃٍ ہِیَ؟ قُلْتُ : سَابِعَۃٌ تَمْضِی أَوْ سَابِعَۃٌ تَبْقَی مِنَ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ۔ قَالَ : وَمِنْ أَیْنَ تَعْلَمُ؟ قَالَ قُلْتُ : خَلَقَ اللَّہُ سَبْعَ سَمَوَاتٍ ، وَسَبْعَ أَرَضِینَ ، وَسَبْعَۃَ أَیَّامٍ ، وَإِنَّ الدَّہْرَ یَدُورُ فِی سَبْعٍ ، وَخُلِقَ الإِنْسَانُ فَیَأْکُلُ وَیَسْجُدُ عَلَی سَبْعَۃِ أَعْضَائَ وَالطَّوَّافُ سَبْعٌ ، وَالْجِبَالُ سَبْعٌ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَقَدْ فَطِنْتَ لأَمْرٍ مَا فَطِنَّا لَہُ۔ [صحیح۔ اخرجہ عبدالرزاق]
(٨٥٥٨) عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ عمر (رض) نے اصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلایا اور ان سے پوچھا لیلۃ القدر کے بارے میں تو ان سب نے اتفاق کیا کہ وہ آخری عشرے میں ہے۔ میں نے عمر (رض) سے کہا : میرا خیال ہے میں جانتا ہوں کہ وہ رات کونسی ہے تو انھوں نے کہا : وہ کونسی رات ہے ؟ میں نے کہا : یہ آخری عشرے سے سات گزر جائیں یا سات رہ جائیں ۔ انھوں نے کہا : تو کیسے جانتا ہے ؟ تو میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان اور سات زمینیں اور سات دن بنائے اور سال بھی سات ہی میں پھرتا ہے کہ انسان پیدا کیا گیا۔ وہ کھاتا ہے اور سجدہ کرتا ہے۔ سات اعضاء پر ہی اور طواف بھی سات ہیں اور پہاڑ بھی سات تو عمر (رض) نے کہا : تو نے وہ بات سمجھی جو ہم نہ سمجھے تھے۔