(۸۵۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَعْنِی ابْنَ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتِ : السُّنَّۃُ عَلَی الْمُعْتَکِفِ أَنْ لاَ یَعُودَ مَرِیضًا ، وَلاَ یَشْہَدَ جَنَازَۃً ، وَلاَ یَمَسَّ امْرَأَۃً ، وَلاَ یُبَاشِرَہَا ، وَلاَ یَخْرُجَ لِحَاجَۃٍ إِلاَّ لِمَا لاَ بُدَّ لَہُ مِنْہُ ، وَلاَ اعْتِکَافَ إِلاَّ بِصَوْمٍ ، وَلاَ اعْتِکَافَ إِلاَّ فِی مَسْجِدٍ جَامِعٍ۔
قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ ذَہَبَ کَثِیرٌ مِنَ الْحُفَّاظِ إِلَی أَنَّ ہَذَا الْکَلاَمَ مِنْ قَوْلِ مَنْ دُونَ عَائِشَۃَ ، وَأَنَّ مَنْ أَدْرَجَہُ فِی الْحَدِیثِ وَہِمَ فِیہِ۔ فَقَدْ رَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ : الْمُعْتَکِفُ لاَ یَشْہَدُ جَنَازَۃً، وَلاَ یَعُودُ مَرِیضًا ، وَلاَ یُجِیبُ دَعْوَۃً ، وَلاَ اعْتِکَافَ إِلاَّ بِصِیَامٍ وَلاَ اعْتِکَافَ إِلاَّ فِی مَسْجِدِ جَمَاعَۃٍ۔ وَعَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ : الْمُعْتَکِفُ لاَ یَعُودُ مَرِیضًا وَلاَ یَشْہَدُ جَنَازَۃً۔
[صحیح لغیرہ۔ ابو داؤد]
(٨٥٩٤) عروہ (رض) سیدہ عائشہ (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ معتکف جنازے میں حاضر نہ ہو اور نہ مریض کی عیادت کرے اور نہ دعوت قبول کرے روزوں کے بغیر اعتکاف نہیں اور نہ جامع مسجد کے بغیر اعتکاف ہے۔
(ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں کہ معتکف جنازے میں شریک نہ ہو اور نہ بیمار کی تیمارداری کرے نہ دعوت قبول کرے اور نہ ہی روزوں کے بغیر اعتکاف کرے اور نہ ہی جامع مسجد کے بغیر اعتکاف ہے۔ سعید بن مسیب کہتے ہیں : معتکف تیمارداری نہ کرے اور جنازے میں شریک بھی نہ ہو۔ )