(۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی لَیْلَی عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی فَأَتَاہُ رَجُلٌ ذُو ضَفِیرَتَیْنِ فَقَالَ: یَا أَبَا عِیسَی حَدِّثْنِی مَا سَمِعْتَ مِنْ أَبِیکَ فِی الْفِرَائِ۔قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی: أَنَّہُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ-فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أُصَلِّی فِی الْفِرَائِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((فَأَیْنَ الدِّبَاغُ؟)) قَالَ ثَابِتٌ:فَلَمَّا وَلَّی قُلْتُ مَنْ ہَذَا؟ قَالَ: سُوَیْدُ بْنُ غَفَلَۃَ۔
وَرَوَاہُ بَعْضُ النَّاسِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی بِإِسْنَادِہِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَہُوَ غَلَطٌ۔
[ضعیف۔ فیہ محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلـٰی]
(٨٧) حضرت ثابت بنانی سے روایت ہے کہ میں عبد الرحمن بن لیلیٰ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو دو مینڈھوں والا ایک شخص آیا اور اس نے کہا : اے ابو عیسیٰ ! اس کے بارے میں بیان کریں جو آپ نے فراء (چمڑے) کے بارے میں اپنے والد سے سنا، انھوں نے فرمایا : مجھے میرے باپ نے بیان کیا کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ایک شخص آیا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں فراء (چمڑے) پر نماز پڑھ لوں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” دباغت کس لیے ہے ؟ “ ثابت (رض) کہتے ہیں : جب وہ چلا گیا تو میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : سوید بن غفلہ۔
(ب) بعض لوگوں نے عبیداللہ بن موسیٰ عن ثابت عن انس کی سند سے روایت کیا ہے، لیکن یہ روایت صحیح نہیں ہے۔