(۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ یُعْرَفُ بِأَبِی الشَّیْخِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِیدِ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الأَزْدِی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی لَیْلَی عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ تَرَی فِی الصَّلاَۃِ فِی الْفِرَائِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((فَأَیْنَ الدِّبَاغُ؟))
الإِسْنَادُ الأَوَّلُ أَوْلَی أَنْ یَکُونَ مَحْفُوظًا۔
(ج) وَابْنُ أَبِی لَیْلَی ہَذَا کَثِیرُ الْوَہَمِ۔ [ضعیف: وفیہ محمد بن أبی لیلی]
(٨٨) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! فراء نامی چمڑے پر نماز پڑھنے کے متعلق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا خیال ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” دباغت کس لیے ہے ؟ “ (یعنی رنگنے کے بعد اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں)
(ب) پہلی سند کا محفوظ ہونا زیادہ صحیح ہے۔ ابن ابی لیلیٰ کثیر الوہم ہے۔