(۸۶۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا الْعَلاَئُ بْنُ الْمُسَیَّبِ حَدَّثَنَا
أَبُو أُمَامَۃَ التَّیْمِیُّ قَالَ : کُنْتُ رَجُلاً أُکْرِی مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ وَکَانَ أُنَاسٌ یَقُولُونَ إِنَّہُ لَیْسَ لَکَ حَجٌّ فَلَقِیتُ ابْنَ عُمَرَ فَقُلْتُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّی رَجُلٌ أُکَرِّی فِی ہَذِہِ الأَوْجُہِ وَإِنَّ أُنَاسًا یَقُولُونَ لِی إِنَّہُ لَیْسَ لَکَ حَجٌّ۔ فَقَالَ أَلَسْتَ تُحْرِمُ وَتُلَبِّی وَتَطُوفُ بِالْبَیْتِ وَتُفِیضُ مِنْ عَرَفَاتٍ وَتَرْمِی الْجِمَارَ قَالَ قُلْتُ : بَلَی۔ قَالَ : فَإِنَّ لَکَ حَجًّا۔ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلَہُ عَنْ مِثْلِ مَا سَأَلْتَنِی عَنْہُ فَسَکَتَ عَنْہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمْ یُجِبْہُ حَتَّی نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّکُمْ} فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَرَأَ ہَذِہِ الآیَۃَ عَلَیْہِ وَقَالَ : ((لَکَ حَجٌّ))۔
[حسن۔ ابوداود ۱۷۳۳۔ حاکم ۱/ ۷۱۸۔ دارقطنی ۲/ ۲۹۲]
(٨٦٥٧) ابو امامہ تمیمی فرماتے ہیں کہ میں کرائے پر لوگوں کی خدمت کرتا تھا، لوگ کہتے تھے کہ تیرا حج نہیں ہے، میں ابن عمر (رض) کو ملا اور میں نے کہا کہ میں کرائے پر لوگوں کے یہ کام کرتا ہوں اور لوگ کہتے ہیں کہ تیرا حج نہیں ہے، تو انھوں نے فرمایا : کیا تو احرام نہیں باندھتا اور تلبیہ، طواف اور عرفات سے لوٹنا اور میٔ جمار نہیں کرتا ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں۔ انھوں نے فرمایا : تو پھر تیرا حج ہے۔ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اس نے بھی ویسا ہی سوال کیا جیسا تو نے مجھ سے کیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے اور اس کو جواب نہ دیا حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوگئی : { لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّکُمْ }” تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو “ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور اس کو یہ آیتیں سنائیں اور فرمایا کہ تیرا حج ہے۔